مشکل تو نہیں
دل کے رازوں کو جو جانے وہ ذات ہے رب الزلجلال
ارادہ کرتا ہے تو کہ کن فیاکون بات مشکل تو نہ تھی
درِ خیبر کو اٹھانا ایک متقی کا بات مشکل تو نہ تھی
جلا نا ابراہیم کو تھا جو نمرود کا تھا یہ خیال
سرد آگ کا کرنا رب کو کوئی مشکل تو نہ تھی
غرق فرعون ہوا دریا میں بن گئی عبرت کی مثال
ضرورت حیات موسیٰ تھی یہ تجھے مشکل تو نہ تھی
عیسی کو بچایا صلیب سے تماشا پر ڈالا اندھا جال
پردے غیبت میں کرنا اسی کو یہ مشکل تو نہ تھی
محمد کا بھائی علی فاتح خیبر تھا باکمال
درِ خیبر کو اٹھانا ایک متقی کا مشکل تو نہ تھی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں